جلووں کے اس ہجوم میں لازم ہے احتیاط

 

Carefully cautious in this crowd of flowers,The Creator of the Old Creator created the soul in the tomb. And the beginning of the beginning is the body of the soul. The middle-time man only does a constant and continuous continuity. This war or war is for the survival of someone’s body, for the survival of one’s soul. Announcement:

Les Llanlan
The master of the person who has survived what he does. But these two paths are against each other. If one is the thirth, the other is a fire, then there is a fire, the other water is an east, then the other west is a human being, the second beast is a survival, the other is an animal, one life, then the second one is love, then the second one.
In the sense of the survival of the soul, there is a fury of the body and the spirit of soul is in the eyes of the body. Once one is obtained, it gets lost automatically.
It is necessary to have a heart attack in the body of the soul. While playing outside the outer-eyed eyes of the castle. It is dead or alive under the eyes of the one that goes inside.
Creator universe ordered believing men and beloved women to keep their ideas low in the book. Bending the heart bends heart and the heart bends down the head. And in the wake of the head whose heart is covered with heart, it receives the purity of the purity, worship of worship, the devotion of faith, the trumpet of the soul, the creativity of deeds and the imams of the spectators.
The controller is able to control his own self. The person who is occupied by the one who is possessed on his behalf, gives life to his own thinking, and acts according to his own actions. For Allah is the one who shares the bondage of the unseen to Allah. It takes and gives rise to the unity and integrity of the world, by turning it into a shadow, a boldness, becoming a dumb, becoming a dreadful and humiliating and hopeless hope. Protecting the sight starts the journey of Vijan in which the souls and souls are exhausted from the misery of desires and are dedicated to the other divine and other faith. This tranquil heart runs on the way of “self” to end “self”. This brings its scale to love with truth. As the pace increases, the intelligent curtains rise and the mysteries of life are revealed. She becomes capable of visualizing the insight of the blind. Controlling the control becomes stronger and very strong. This confession connects them with God, protects them from insulting. It’s a delicate ancestor bagged by two creams. The mountains and the river are drowned by two storms and the mountains. The death of this oppression does not die.
Contrary to this, the illiterate soul causes distress and heart attack. The body of a person with a heart and anxiety spirit is always “lost”. So,
God is not the One, the Wise
Do not live forever

The heart of an evil eye is anxiety. He is always deprived of acting on one point. It is good to see that person’s eyes, but it is always more important to understand the fact of the item. Both the heart and the body burn and burn in the fire of lust and lust. He can never get life alive. He always keeps falling in a rare way, in that, the rituals never lose. Hafiz Ibn Qayyum, Allah Almighty says:
“When the arrows of the eye is thrown out, the thrower first gets killed. The reason is that the one who sees the watch sees the other side of his wound, while he deepens the wound.”
(Alphabet alphabet, pp. 417)

The dominant temptation of contemporary is illiterate. The youngsters who are disturbed by disturbing contemporary youth, are suffering from extortion of nine-twentieth in the era of mobile devices, social media and mixed education. This is why there is no Mu’awiyah and Mu’awiyah (may Allaah be pleased with him), neither Muhammad bin Qasim nor any Khalid bin Valeed, nor Moses bin Naseer, set his face on the head, and set up lazy stories. Their hearts are dead and soul bitter. They have worship in worship, not accepting martyrdom, taking them, and in love, nor in riggings and prayers.

There is a need for faith to restore them, while protecting the eyes for the sake of the believer. That’s why I would say:
Carefully cautious in this crowd of flowers
I’m sorry, I’m sorry
From the Penalty to the Country

جلووں کے اس ہجوم میں لازم ہے احتیاط

ابتدائے آفرینش خالق کائنات نے جسد خاکی میں روح پھونک کر کیا. اور ابتدا ئے آفرینش ہی روح کا بدن سے وصال ہے. درمیان کا عرصہ انسان ایک جہد مسلسل اور حرب مسلسل میں صرف کرتا ہے. یہ حرب یا جنگ کسی کی بدن کی بقا کے لیے ہوتی ہے تو کسی کی روح کی بقا کے لیے. اعلان باری تعالی: .

لیس للانسان ألا ما سعی
کے مصداق جو جس کی بقا کے کیے کوشاں ہوتا ہے اسی کو پا لیتا ہے. لیکن یہ دونوں راستے ایک دوسرے کی ضد ہیں. ایک اگر عرش ہے تو دوسرا فرش, ایک آگ ہے تو دوسرا پانی, ایک مشرق ہے تو دوسرا مغرب, ایک انسان ہے تو دوسرا حیوان, ایک بقا ہے تو دوسرا فنا, ایک حیات ہے تو دوسرا ممات, ایک عشق ہے تو دوسرا خرد.
یعنی روح کی بقا کی دھن میں بدن کی فنا ہے اور بدن کی بقا کی دھن میں روح کی فناہے. ایک حاصل ہو تو خود بخود لا حاصل ہو جاتا ہے.
روح اطہر کے لیے بدن اطہر میں قلب اطہر کا ہونا لازم ہے. جبکہ قلب اطہر کا بیرونی دروزہ آنکھوں سے کھلتا ہے. آنکھوں کے راستے سے جو اندر جاتا ہے اسی کے زیر اثر دل مردہ یا زندہ قرار پاتا ہے.
خالق کائنات نے کتاب حق میں مومن مردوں اور مومنہ عورتوں کو اپنی نظریں نیچی رکھنے کا حکم دیا. نظر کے جھکنے سے دل جھکتا ہے اور دل کا جھکنا سر کو جھکاتا ہے. اور بارگاہ الہی میں جس کا سر دل سمیت جھکے وہی خشیت کی چاشنی,عبادت کی لذت, ایمان کی حلاوت, روح کی تراوت, عمل کی سخاوت اور متقین کی امامت حاصل کرتا ہے.
نظر پر قابو رکھنے والا ہی نفس پر قابو رکھ سکتا ہے.نفس پر قابض ہونے والااپنی فکر اور اپنے قول و افعال کو اپنے تابع کر کے زندگی گزارتا ہے.کیونکہ اللہ کے لیے نامحرم کے دیدار پر حصار باندھنے والے کو اللہ اپنے حصار میں لے لیتا ہے اور اسکو دربدر پھرنے, دربدر جھکنے, دربدر سائل بننے , دربدر گریہ و زاری کرنےاور دربدر امید لگانے سے بچاکر واحد و یکتا کی شناسائی عطا کرتا ہے. نظر کی حفاظت ہی وجدان کے سفر کا آغاز کرتی ہے جس میں قلب و روح خواہشات کی غلاظت سے چھٹکارا پا کر نور الہی اور نور ایمان سے سرشار ہوتے ہیں. یہ توانا و بینا دل خود سے” میں” کو ختم کر کے “خودی” کے راستے پر چلتا ہے.یہ اپنے پیمانے کو عشق حقیقی سے لبریز کر لیتا ہے. جوں جوں نظر پر پہرے بڑھتے ہیں عقل و خرد کے پردے اٹھ جاتے ہیں اور اس پر اسرار حیات آشکار ہو جاتے ہیں. وہ بصارت سے بصیرت کا سفر بآسانی طے کرنے کے قابل بن جاتا ہے. ضابط ضبط کرتا کرتا مضبوط اور بہت مضبوط ہو جاتا ہے.یہ ضبط انکو اللہ سے ربط عطا کرتا ہے, خبط سے بچا کر ثبت دلاتا ہے. اسے دو عالم سے بیگانہ کرنے والی لذت آشنائی ملتی ہے. اسکی ٹھوکر سے صحرا و دریا دو نیم اور پہاڑ اسکی ہیبت سے رائی ہو جاتے ہیں. اس کےبدن کے مرنے سے کردار نہیں مرا کرتا.
اس کے برعکس بد نظری روح کو گھائل اور قلب کو مائل (الی السوء) کرتی ہے. زخمی دل اور بے چین روح کے حامل شخص کا مقدر ہمیشہ “لا حاصل” ہوا کرتا ہے. بقول شاعر:
نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم
نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے

بد نظر کا دل انتشار کا شکار رہتا ہے. وہ کسی ایک نکتے پر ارتکاز کرنے سے ہمیشہ محروم رہتا ہے. اس اہل نظر کا شوق نظر تو خوب ہوتا ہے مگر شے کی حقیقت کو سمجھنے سے عاری رہتا ہے. اسکا دل اور بدن دونوں حرص اور ہوس کی آگ میں جل کر راکھ ہو جاتے ہیں. وہ کبھی حیات جاوداں نہیں پا سکتا. وہ ہمیشہ آفاق میں گم رہتا ہے, اس میں آفاق کبھی گم نہیں ہوا کرتے. حافظ ابن قیم رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں :
“نگاہ کا تیر پھینکا جائے تو پھینکنے والا پہلے قتل ہو جاتا ہے. وجہ یہ ہے کہ نگاہ ڈالنے والا دوسری نگاہ کو اپنے زخم کا مداوا سمجھتا ہے حالانکہ وہ زخم کو زیادہ گہرا کرتا ہے”
(الجوب الکافی, صفحہ: 417)

دور حاضر کا غالب فتنہ بد نظری ہے. جو دور حاضر کے نوجوانوں کوبدستور گھائل کر کے ناکارہ کر رہی ہے.موبائل آلات , سوشل میڈیا اور مخلوط تعلیم کے دور حاضر میں نو جونواں کے ضرب کاری ہونے سے عاری ہیں. یہی وجہ ہے کہ اب کوئی معاذ اور معوذ(رضی اللہ عنہما) ہے نہ محمد بن قاسم, کوئی خالد بن ولید بنتا ہے نہ موسی بن نصیر, کہ سر پر کفن باندھ کر نکلیں اور لازوال داستانیں قائم کریں. انکے دل مردہ اور روح افسردہ ہیں. ان میں ذوق عبادت ہے نہ شوق شہادت,انکی لے اور نے میں شوق ہے نہ رگ و پے میں نغمئہ اللہ ھو.

ان سب کی بحالی کے لیے ایمان کی ضرورت ہے جبکہ ایمان کے لیے حیا کی اور حیا کے لیے نظر کی حفاظت کی. اسی لیے میں کہوں گی:
جلووں کے اس ہجوم میں لازم ہے احتیاط
سہو نظر معاف ہے قصد نظر حرام

از قلم تسبیحہ ملک

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *